انگریزی پڑھ کر نئے الفاظ کیسے سیکھیں
اپ ڈیٹ · پڑھنے میں 6 منٹ
پڑھ کر ذخیرۂ الفاظ بڑھانے کے لیے ایسی تحریریں چنیں جن کے زیادہ تر الفاظ آپ پہلے سے جانتے ہوں، اور ہر انجان لفظ پر نہ رکیں۔ پہلے سیاق و سباق سے مطلب کا اندازہ لگائیں، پھر صرف وہ الفاظ محفوظ کریں جو بار بار سامنے آتے ہوں یا جنہیں آپ واقعی استعمال کریں گے۔ کوئی حصہ ختم کرنے کے بعد ان الفاظ کو جانچیں، وہ جملہ لکھ لیں جس میں وہ ملے، اور اگلے چند دنوں میں انہیں دہرائیں۔
پڑھنا نئے الفاظ کے بہترین ذرائع میں سے ایک ہے، کیونکہ ہر لفظ اپنے ساتھ ایک حقیقی جملہ لے کر آتا ہے۔ مشکل نئے الفاظ ڈھونڈنا نہیں، بلکہ یہ چننا ہے کہ کون سے رکھیں، اور پھر انہیں یاد رکھنا ہے۔
صحیح تحریر چنیں
اگر ہر سطر کے لیے لغت کھولنی پڑے تو آپ کا وقت پڑھنے کے بجائے الفاظ ڈھونڈنے میں گزرے گا، اور وہ سیاق و سباق بھی ہاتھ سے نکل جائے گا جو یاد رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ ذخیرۂ الفاظ سیکھنے کے لیے اچھی تحریر میں ہر صفحے پر چند نئے الفاظ ہوتے ہیں، ہر جملے میں چند نہیں۔
ایک فوری ٹیسٹ: پہلا پیراگراف پڑھیں۔ اگر مرکزی خیال سمجھ آ جائے اور صرف گنے چنے الفاظ نئے ہوں تو سطح تقریباً ٹھیک ہے۔ اگر یہی پتا نہ چلے کہ پیراگراف کس بارے میں ہے تو فی الحال کوئی آسان چیز چنیں۔
اچھے ذرائع:
- ایسے موضوعات جنہیں آپ اپنی زبان میں پہلے سے اچھی طرح جانتے ہیں۔ موضوع کے بارے میں آپ کی معلومات نئے الفاظ کا اندازہ لگانے میں مدد دیتی ہیں۔
- آسان کی گئی کتابیں (graded readers) یا خبروں کے وہ ایڈیشن جو سیکھنے والوں کے لیے آپ کی سطح کے مطابق لکھے جاتے ہیں۔
- سیریز اور طویل مضامین۔ وہی کردار، جگہیں اور موضوعات بار بار آتے ہیں، اس لیے نئے الفاظ خود بخود دہرائے جاتے ہیں۔
ہر لفظ پر نہ رکیں
جب کوئی انجان لفظ آئے تو جملے کے آخر تک، بلکہ پیراگراف کے آخر تک پڑھتے رہیں۔ اکثر مطلب واضح ہو جاتا ہے، یا آپ کو احساس ہوتا ہے کہ بات سمجھنے کے لیے یہ لفظ اہم ہی نہیں۔ بار بار رکنے سے توجہ ٹوٹتی ہے اور پڑھنا ایک مشقت لگنے لگتا ہے۔
ایک مفید عادت یہ ہے کہ پڑھتے پڑھتے نئے الفاظ کو انڈر لائن یا ہائی لائٹ کرتے جائیں، انہیں جانچے بغیر۔ کون سے سیکھنے ہیں، یہ فیصلہ آپ بعد میں کریں گے۔
سیاق و سباق سے مطلب کا اندازہ لگائیں
کسی لفظ کو جانچنے سے پہلے اس کا مطلب خود نکالنے کی کوشش کریں۔ یہ اشارے کام آتے ہیں۔
آس پاس کا جملہ۔ "After walking all day in the heat, we were parched and drank two bottles of water each." گرمی میں سارا دن چلنا، ڈھیروں پانی پینا: parched کا مطلب یقیناً بہت پیاسا ہوگا۔
تضاد ظاہر کرنے والے الفاظ، جیسے but، although اور however۔ "The first hotel was spotless, but the second one was dirty." But بتاتا ہے کہ بات dirty (گندا) کے الٹ ہے، اس لیے spotless کا مطلب ہے بالکل صاف ستھرا۔
لفظ کے حصے۔ Unbelievable = un- (نہیں) + believe + -able (سکنے کے قابل)۔ Rewrite = re- (دوبارہ) + write۔ چند عام سابقے (prefixes) اور لاحقے (suffixes) سیکھ لینے سے ہزاروں الفاظ کا اندازہ لگانا آسان ہو جاتا ہے۔
جملے میں لفظ کا کام۔ کیا یہ کسی اسم کی خوبی بیان کر رہا ہے؟ تو غالباً یہ صفت ہے۔ کیا یہ the یا a کے بعد آ رہا ہے؟ تو غالباً یہ اسم ہے۔ صرف کلمے کی قسم جان لینے سے بھی مطلب کا دائرہ تنگ ہو جاتا ہے۔
آپ کا اندازہ بالکل درست ہونا ضروری نہیں۔ پڑھتے رہنے کے لیے موٹا سا اندازہ کافی ہے، اور پہلے اندازہ لگانے کا فائدہ یہ ہے کہ جب آپ اصل مطلب دیکھیں گے تو وہ بہتر یاد رہے گا۔
فیصلہ کریں کہ کون سے الفاظ رکھنے ہیں
کوئی حصہ ختم کرنے کے بعد ان الفاظ پر واپس جائیں جن پر آپ نے نشان لگایا تھا۔ ان میں سے ہر لفظ آپ کی الفاظ کی فہرست میں جگہ کا حق دار نہیں۔ لفظ رکھ لیں اگر:
- وہ ایک سے زیادہ بار آیا۔ اگر مصنف نے ایک ہی باب میں اسے دو بار استعمال کیا ہے تو غالباً یہ آپ کو پھر ملے گا۔
- آپ اسے خود استعمال کریں گے۔ جو لفظ آپ کے کام، پڑھائی یا روزمرہ زندگی میں کام آئے وہ محنت کے لائق ہے۔
- جملہ اسے جانچنے کے بعد ہی سمجھ آیا۔ اس کا مطلب ہے کہ معنی کا اصل بوجھ اسی لفظ پر ہے۔
بہت نایاب، بہت تکنیکی یا صرف کسی ایک کہانی میں استعمال ہونے والے الفاظ چھوڑ دیں۔ اگر وہ دوبارہ آئے تو آپ انہیں سیاق و سباق سے پہچان لیں گے۔
موٹا سا اصول یہ ہے کہ پڑھائی کی ایک نشست سے پانچ سے دس الفاظ رکھ لینا کافی ہے۔ ایک چھوٹی فہرست جسے آپ واقعی دہرائیں، اس لمبی فہرست سے بہتر ہے جسے آپ دوبارہ کبھی نہ دیکھیں۔
صرف لفظ نہیں، پورا جملہ محفوظ کریں
جو بھی لفظ آپ رکھیں، اس کے لیے یہ لکھ لیں:
- وہ جملہ جس میں آپ کو یہ ملا، ہوبہو نقل کیا ہوا۔
- آپ کے اندازے میں اس کا کیا مطلب تھا، اور دراصل اس کا کیا مطلب ہے۔
- اس کے ساتھ آنے والے چھوٹے الفاظ۔ The meeting was put off until Friday میں مطلب put off میں ہے، اکیلے put میں نہیں۔ اس طرح کے فریزل ورب تحریروں میں بہت عام ہیں، اور فریزل ورب کا سبق سمجھاتا ہے کہ یہ کیسے کام کرتے ہیں۔
- اس لفظ کے ساتھ اپنا ایک جملہ۔
نقل کرتے وقت گرامر پر بھی دھیان دیں۔ پڑھائی ہی وہ جگہ ہے جہاں آپ If I had known, I would have… جیسے سانچوں کو فطری انداز میں استعمال ہوتے دیکھتے ہیں۔ جب کوئی جملے کا سانچہ آپ کو حیران کرے تو اسے دیکھ لیں۔ یہ والا سانچہ تیسری شرطیہ صورت (third conditional) کے سبق میں سمجھایا گیا ہے۔
اگر آپ کاغذ پر پڑھتے ہیں تو ایک چھوٹی نوٹ بک رکھیں یا کتاب کے آخر میں ایک صفحہ مخصوص کر لیں۔ اگر فون پر پڑھتے ہیں تو جملہ فوراً اپنے نوٹس میں کاپی کر لیں، اس سے پہلے کہ وہ کہیں کھو جائے۔ VocabNote میں آپ کوئی لفظ ٹائپ کر کے اس کا مکمل نوٹ حاصل کر سکتے ہیں جس میں معنی، تلفظ اور مثالیں ہوتی ہیں، اور پریمیم کسی صفحے کی تصویر یا پیسٹ کیے گئے اقتباس سے سیدھے الفاظ نکال سکتا ہے۔
جو پڑھا اسے دہرائیں
پڑھائی سے ملے نئے الفاظ جلد ذہن سے اتر جاتے ہیں، جب تک آپ ان کی طرف لوٹیں نہیں۔ ایک ہلکا سا معمول کافی ہے:
- اگلے دن معنی ڈھانپ دیں اور ہر لفظ کو اس کے جملے کی مدد سے سمجھانے کی کوشش کریں۔
- تقریباً ایک ہفتے بعد خود کو پھر آزمائیں، اس بار معنی دیکھ کر لفظ یاد کرنے کی کوشش کریں۔
- پڑھتے رہیں۔ کسی محفوظ کیے ہوئے لفظ کا نئی تحریر میں دوبارہ مل جانا بہترین دہرائی ہے، اس لیے اسی مصنف کی یا اسی موضوع پر مزید پڑھنا فائدہ مند ہے۔
خلاصہ
- ایسی تحریریں پڑھیں جن کے ہر صفحے پر صرف چند الفاظ نئے ہوں۔
- انجان الفاظ پر نشان لگائیں، لیکن پڑھتے رہیں۔ پہلے سیاق و سباق سے اندازہ لگائیں۔
- صرف وہ الفاظ رکھیں جو بار بار آئیں، معنی کے لیے اہم ہوں، یا جنہیں آپ استعمال کریں گے۔
- پورا جملہ محفوظ کریں اور اپنا ایک جملہ لکھیں۔
- اگلے دن اور ایک ہفتے بعد دہرائیں، اور انہی موضوعات پر پڑھتے رہیں۔